solar panels, installation, workers

پاکستان میں پی وی سولر سسٹم کا بڑھتا ہوا استعمال

پاکستان میں پی وی سولر سسٹم کا بڑھتا ہوا استعمال

شمسی توانائی پینل ٹیکنالوجی زیادہ کارکردگی اور کم قیمتوں کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں طلب میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔پچھلےچند سالوں سے پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کا رجحان دن بدن بڑھتا جارہا ہے اور لوگوں میں اس کا شعور تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بجلی کی شدید کمی ہے اور اس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ زیادہ ہے اور دوسری وجہ جہاں بجلی کی کمی نہیں وہاں لوگ بجلی کے زائد بلوں سے پریشان ہیں اور تیسری وجہ لوگوں کا شوق ہے جو اس کو لگواکر تمام پریشانیوں سے بچنا چاہتے ہیں، میں بچپن سے ہی فری بجلی بنانے کا شوق رکھتا تھا اس کے لیے میں نے بہت سے تجربات کیے مگر خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا ، میں بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور زائد بلوں سے پریشان تھا تو میں نے 2013 میں سولر فیلڈ میں آ نے کا ارادہ کیا، یہ معلوم کرنے کے لیے میں نے صدر ریگل کراچی کی دکانوں کادورہ کیا، اس دوران مجھے جو معلومات حاصل ہوئیں بجائے اس کے کہ میرا حوصلہ یا علم بڑھتا ،میری کنفیوژن میں اور اضافہ ہو گیا اورزیادہ تر دوکاندارصرف اپنا مال بیچنا چاہتے تھے ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ وہ کیا بیچ رہے ہیں اور اس سے ان کے صارف کو کیا نقصان ہوگا یعنی وہ تمام لوگ جو اس وقت سولر پینل کی خرید و فروخت کررہے ہیں تو بتا کچھ اوررہے تھے اور دے کچھ اور رہے تھے ، پھر میں نے کراچی کے ہر بڑے ڈیلرز کے ریٹ اور ان کے سولر پینلز اور دیگر اشیاء کی کوالٹی چیک کی پوری مارکیٹ میں صرف کچھ ہی دوکاندار ایسے تھے جو اللہ کا خوف رکھتے تھے، تو آپ لوگ اگر کسی بڑی مارکیٹ کا رخ کریں تو پہلے ساری معلومات حاصل کریں پھر ہی کوئی فیصلہ خریدنے کے لیے کریں ۔ یہاں میں سولر پینل کی اقسام کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا کہ پاکستان میں لوڈشیڈنگ کے مطابق کونسا سولر پینل آپ کے لیے سب سے اچھا ہے اس لئے دی گئی معلومات کاسب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ جب سولر مصنوعات کی خریداری کریں گے تو کوئی آپ کو دھوکا نہیں دے سکے گا اور کیونکہ سولر کے ذریعے بجلی حاصل کرنے کے لیے سولر پینل کے علاوہ بھی اور بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہاں مندرجہ ذیل اس پر بات کی جائے گی۔

سولر پینل:

سولر پینل ایک ایسی ڈیوائس ہے جو روشنی کو بجلی میں تبدیل کرتی ہے ایک سولر پینل مختلف چھوٹے چھوٹے سولر سیلز کا مجموعہ ہوتا ہے ان کو ایک بڑی شیٹ پر لگا کر بجلی حاصل کی جاتی ہے ، بنیادی شمسی پینل کی بناوٹ کئی برسوں میں زیادہ تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ ایک سولر سیل 0.5 وولٹ ہی پیدا کرتا ہے جبکہ سیل کے سائز کے فرق کی وجہ سے ایمپیئر کم یا زیادہ ہو جاتے ہیں ان سیلز کو اوپر کی جانب سے ٹیمپڑد گلاس اور نچلی جانب سے TPTشیٹ سے محفوظ کیا جاتا ہے یعنی  زیادہ تر شمسی پینل ابھی بھی سامنے کے شیشے کی پلیٹ اور ایلومینیم فریم میں معاون پچھلے پولیمر پلاسٹک کی بیک شیٹ کے درمیان سینڈویچڈ سلکان کرسٹل لائن سیلوں کی ایک سیریز سے بنا ہوتے ہیں۔ ایک سولر پینل ابھی تک زیادہ سے زیادہ 21 فیصد دھوپ ہی استعمال کرپاتا ہے مگر امید ہے کہ آنے والے وقتوں میں یہ کارکردگی 25 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے جس سے پینل کے سائز میں بھی فرق آجائے گا، ایک پینل زیادہ سے زیادہ اپنی آؤٹ پٹ کا 70فیصد توانائی ہی بنا پاتا ہے یعنی ایک 300 واٹ کا پینل زیادہ سے زیادہ 210 واٹ ہی بنا پائے گا.

Solar Panel (سولر پینل) assembly construction

  یہ عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں:

(۱) مونو کرسٹلائن

(۲) پولی کرسٹلائن

mono-v-poly-crystalline-cells

مونو کرسٹلائن سولر پینل کی پہچان یہ ہے کہ اس کے سولر سیل عام طور پر بلیک کلر یا نیوی بلیو رنگ کے ہوتے ہیں یہ بالکل چوکور نہیں ہوتے بلکہ ان کے کنارے کٹے ہوئے ہوتے ہیں، یہ ان علاقوں کے لیے زیادہ موضوع ہے جہاں پر درجہ حرارت کم ہوتا ہے یہ زیادہ سے زیادہ ۳۵ ڈگری تک اچھا کام کرتا ہے اس کے بعد اس کی کارکردگی کم ہونا شروع ہوجاتی ہے اور اگر ان کو گرم علاقوں میں لگایا جائے تو یہ گرمی میں کام کرنے کے دوران ان پر زیادہ لوڈ ڈال کر استعمال کیا جائے تو یہ جل بھی سکتے ہیں تو یہ بہتر ہے کہ ان کو ٹھنڈے علاقوں مری، کشمیر، کے پی کے جیسے علاقوں میں استعمال کیا جائے، سندھ اور پنجاب میں ان کو نہ استعمال کیا جائے ، ٹھنڈے علاقوں میں بادل ہونے کی صورت میں بھی یہ اچھا کام کرتا رہتا ہے۔

دوسری قسم پولی کرسٹلائن ہے یہ گرم علاقوں کے حساب سے ڈیزائن کیا گیا ہے گرم علاقوں لاہور ،گجرات ،بہاولپور ملتان اور کراچی کیلئے پولی موضوع ہیں اور یہ نیلے کلر میں ہوتے ہیں اور ان میں دھوپ کی شدت کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہےیعنی یہ 65 ڈگری تک کام کرسکتا ہے یہ تیز دھوپ میں اچھا کام کرتا ہے ۔ بادل ہونے کی صورت میں یہ اپنی کارکردگی 20 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ ان سولر پینلز کی کارکردگی ان کی ہفتہ وار صفائی پر بھی منحصر ہے اگر ان کی وقت پر صفائی نہیں کی جائے تو یہ اپنی کارکردگی کھو دیتے ہیں، ان کو اگر دھونا مقصود ہوتو صجح یا شام میں دھوئے جاسکتے ہیں کیونکہ اگر تیز دھوپ میں ان پر پانی ڈالا جائے تو ان کا اوپری گلاس ٹوٹ سکتا ہے، صفائی کے دوران سولر پینل کو انورٹر سے الگ کردیا جائے تو بہتر ہے تاکہ کسی الیکٹرک شاک سے بچا جا سکے۔

انورٹرز:

پینلز کے علاوہ جو سب سے اہم چیز پی وی سولر سسٹم میں سمجھی جاتی ہے وہ ہے انورٹر، انورٹر اس تمام سسٹم میں دل کا کام کرتا ہے، اگر انورٹر کے انتخاب میں اگر غلطی ہوئی تو سسٹم کی کارکردگی میں فرق پڑ سکتا ہے، آج کل دستیاب انورٹز دو قسم کے ہیں ایک آن گرڈ اور دوسرا آف گرڈ ، ان دونوں قسم کے انورٹرز میں چارج کنٹرولر انورٹر کے اندر ہی ڈیزائن کردیا جاتا ہے جو سولر پینلز سے کرنٹ کو انورٹر اور بیٹریوں کو اسمارٹ طریقے سے فراہم کرتا اور کنٹرول کرتا ہے۔

آف گرڈ انورٹر:

آف گرڈ انورٹرز پاور گرڈ موجود ہو یا نہ ہو یہ کام کرتا رہتا ہے اور یہ ڈیجیٹل سافٹ ویئر پر ڈیزائن کئے جاتے ہیں اس لیے یہ بڑے اسمارٹ طریقے سے کام کرتے ہیں، ان کے ساتھ بیٹریز کا بھی استعمال کیا جاتا ہے تاکہ بجلی نہ ہونے کی صورت میں بیک اپ حاصل کیا جا سکے، آج کل کچھ ایسے ماڈلز بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں جو بغیر بیٹریز کے دن میں چلائے جا سکتے ہیں مگر ان میں ایک قباحت یہ ہے کہ اگر انورٹر پر لوڈ ذیادہ ہو اور سولر سے پروڈکشن کم ہوئی تو یہ انورٹرشٹ ڈائون ہوجائے گا۔ دوسرے جب ہم سولر پینل سے ڈائریکٹ بجلی حاصل کر کے استعمال کرنا چاہیں تو اس سے بیٹریز کے اخراجات سے تو بچ جاتے ہیں لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ رات کے وقت اور بارش کے موسم میں آپ بجلی حاصل نہیں کرسکتے یہ طریقہ پاکستان میں زیادہ کامیاب نہیں ہے ہمارا بجلی کا نظام ایسا ہے کہ آئے دن لوڈشیڈنگ ہوتی رہتی ہے کیونکہ ہمیں رات کے اوقات میں بھی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے بیٹریوں کا اضافہ کرنے سے ہم سورج کی روشنی نہ ہونے کی صورت میں بھی بجلی کو اسٹور کر کے استعمال میں لا سکتے ہیں اس پر اخراجات تو کچھ زیادہ آتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ اس کو ترجیح دیتے ہیں۔

آن گرڈ انورٹر:

آن گرڈ انورٹرز ریورس میٹرنگ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور ان میں بیک اپ سسٹم عام طور پر نہیں ہوتا یعنی اس میں بیٹری نہیں ہوتی اور یہ بجلی جنیریٹ کرکے گرڈ میں شامل کرتے ہیں اس لیے ان کے لیے گرڈ ہونا ضروری ہے ورنہ یہ کام نہیں کرتے، مگر ان فائدہ یہ ہے کہ استعمال ہونے کے بعد فاضل بچ جانے والی بجلی یونٹ کی شکل میں گرڈ میں شامل ہوتی ہے جس سے صارف کو ماہانہ ایک معقول رقم دستیاب ہوجاتی ہے اور ماہانہ بل بھی ادا نہیں کرنا پڑتا۔

بیک اپ بینک:

سولر سسٹم چونکہ دن میں انورٹر کےذریعے فری بجلی فراہم کرتا ہے اور رات میں پاور گرڈ سے اور بجلی نہ ہونے کی صورت میں بیک اپ بینک سے بجلی فراہم کرتا ہے،بیک اپ کے کے لیے عام طور پر بیٹریز کا استعمال کیا جاتا ہے یہ بیٹریز مختلف اقسام کی ہوتی ہیں اور ان میں مختلف لائف سائیکلز ہوتے ہیں، لائف سائیکل سے مراد یہ کہ یہ کتنی دفعہ چارج اور ڈسچارج ہوسکتی ہیں، ایک بیٹری عام طورپر 14.5وولٹ پر فل چارج اور 10.5وولٹ پر 100 فیصد ڈسچاج ہوتی ہے، ان کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں۔

1. لیکویڈ بیٹری :

یہ گاڑیوں کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہے لیکن لوگ اس کو سولر سسٹم یا یو پی ایس کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، ان کی کارکردگی سولر سسٹم یا یو پی ایس میں بہت زیادہ اچھی نہیں ہوتی کیونکہ یہ جلدی ڈسچارج ہوجاتی ہیں، اس میں سائیکلز 300 سے 400 تک ہوتے ہیں، یہ کافی سستی اور بہت زیادہ حساس ہوتی ہیں زرا سے غلط استعمال سے یہ خراب ہوجاتی ہیں۔ عام طور پر ایک سال سے ۱۸ ماہ تک یہ چل جاتی ہیں۔

2. ٹیوبلر بیٹری :

یہ بھی لیکیویڈ ہی ہوتی ہے مگر اس کی ٹیکنالوجی اور میٹریلر عام لیکیویڈ بیٹری سے مختلف ہوتا ہے، یہ خاص طور پر سولر سسٹم کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہے ، ان کی کارکردگی سولر سسٹم یا یو پی ایس میں بہت زیادہ اچھی ہوتی ہے، یہ چارج 3 سے 6 گھنٹے میں ہوجاتی ہے اور بیک اپ 2سے 6 گھنٹے تک ہوسکتا ہے،اس میں سائیکلز 800 سے 1400 تک ہوتے ہیں، یہ عام لیکویڈ بیٹری سے تھوڑی مہنگی ہوتی ہے مگر کارکردگی میں 3 گنا ہوتی ہیں، یہ عام طور پر 2 سال ساے 3 سال تک اچھی چل جاتی ہیں۔

3. ڈرائی بیٹری :

یہ بھی خاص طور پر سولر سسٹم کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہے، ان کی کارکردگی سولر سسٹم یا یو پی ایس میں بہت زیادہ اچھی ہوتی ہے، یہ چارج 2 سے 4 گھنٹے میں ہوجاتی ہے اور بیک اپ 4 سے 8 گھنٹے تک ہوسکتا ہے،اس میں سائیکلز 1100 سے 1800 تک ہوتے ہیں، یہ ٹیوبلر بیٹری سے دگنی مہنگی ہوتی ہے اور کارکردگی میں 2 گنا ہوتی ہیں، یہ عام طور پر 3 سال ساے 4 سال تک اچھی چل جاتی ہیں۔

4. لیتھیم آیون بیٹری :

یہ بھی خاص طور پر سولر سسٹم کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہے، ان کی کارکردگی سولر سسٹم یا یو پی ایس میں بہت زیادہ اچھی ہوتی ہے، یہ چارج ایک سے دو گھنٹے میں ہوجاتی ہے اور بیک اپ 6 سے 16 گھنٹے تک ہوسکتا ہے، اس میں سائیکلز 2000 سے 4000 تک ہوتے ہیں، یہ ڈرائی بیٹری سے 3 گنا مہنگی ہوتی ہے اور کارکردگی میں 2 گنا ہوتی ہیں، یہ عام طور پر 4سال ساے 6 سال تک اچھی چل جاتی ہیں۔

5. سپر کیپاسیٹر پاور بینک:

یہ یکسر طور پر مختلف اور جدید ٹیکنالوجی ہے یہ بھی خاص طور پر سولر سسٹم کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہے ، ان کی کارکردگی سولر سسٹم یا یو پی ایس میں بہت زیادہ اچھی ہوتی ہے، یہ چارج ایک سے دو گھنٹے میں ہوجاتا ہے اور بیک اپ 8 سے18 گھنٹے تک ہوسکتا ہے،اس میں سائیکلز 6000 سے 25000 تک ہوتے ہیں، یہ لیتھیم بیٹری سے کچھ مہنگا ہوتا ہے اور کارکردگی میں 4 گنا ہوتی ہیں، یہ عام طور پر 8سال ساے 15 سال تک اچھا کام کرتا ہے۔

سولر پاور سسٹم کو تیار کرنے میں استعمال ہونے والی ہر چیز کی اپنی اہمیت ہے اگر آپ کوئی بھی چیز ہلکی کوالٹی کی استعمال کریں گے تو کبھی بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے مگر استعمال ہونے والی کیبل سستی ہوگی تو سولر پاور سسٹم کی 20 فیصد بجلی کو ضائع کر دے گی جب آپ سولر پاور سسٹم لگانا چاہیں تو اچھی قسم کی چارج کنٹرولر والا انورٹرکا انتخاب کریں کیونکہ سولر پینل چاہے کتنی بھی اچھی کوالٹی کی ہو اگر آپ نے چارج کنٹرولر اچھی کوالٹی کا نہیں لگایا تو آپ کبھی بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکتے ،اگر آپ ایم پی پی ٹی چارج کنٹرولر استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کو پندرہ سے تیس فیصد سے زیادہ کارکردگی دے گا، چارج کنٹرولر کا استعمال اس لیے ضروری ہے کہ ایک سولر پینل 20 سے 46 وولٹ فراہم کرتے ہیں MPPTچارج کنٹرولر ان زائد وولٹ کو امپئیرز میں بدل دیتا ہے جبکہ PWM قسم کے چارج کنٹرولر میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی اور ان زائد وولٹ کو ضایع کردیتا ہے یہ ایک مثال کے طور پر آپ کو سمجھانے کے لیے بتایا گیا ہے، ہمیشہ سولر سسٹم کسی مستند اور اچھے نام کی کمپنی یا انسٹالر سے ہی لگوائیں کبھی خود یا کسی الیکٹریشن سے لگوانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس طرح آپ بغیر کسی کلکولیشن کے لگائیں گے اور پھر سسٹم صحیح کام نہیں کرے گا اور آپ اپنا پیسہ اور ٹائم دونوں ضایع کریں گے۔ امید ہے کہ اس مضمون سے آپ نے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *