Solar park

پاکستان میں سولر انرجی کی ترقی کا معیار

پاکستان میں سولر انرجی کی وسعت اور معیار

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جہاں بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے ، ان میں سب سے بڑی نعمت سورج اور  اس کی روشنی بھی ہے  مگر ہماری بدقسمتی کہ ان 72 سالوں میں ہم کو کوئی اچھا حکمران نہیں مل سکا جو ان نعمتوں کو بروئے کار لاکر پاکستان کو فائدہ پہنچا سکتا مگر اب  موجودہ حکومت اس پر کام کررہی ہے، ماہرین کے مطابق پاکستان سورج سےتقریباً 30 لاکھ میگا واٹ بجلی حاصل کرسکتا ہے لیکن ہم ابھی تک  صرف 1800میگا واٹ بجلی  سورج سے حاصل کررہے ہیں ، اس میں سرکاری سطح پر  صرف  400 میگا واٹ اور بقیہ مختلف پرائیوٹ کمپنیاں اور انفرادی افراد اپنی ضرورت کے مطابق بجلی بنا رہے ہیں ، پاکستان کا شمار سورج سے بجلی حاصل کرنے والے پچیس  بڑے ممالک میں ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق اگر کسی علاقے میں چار سے چھ گھنٹے سورج کی روشنی میں دستیاب ہوں تو وہ سولر انرجی کے لئے موضوع ہے ، پاکستان میں سال کے300دن 9 گھنٹے سورج کی روشنی میں دستیاب ہوتی ہے جب کہ بقیہ دن 5 سے 7دن دستیاب ہوتی ہے، پاکستان میں مطلوبہ مقدار سے دو گنا زیادہ تیز روشنی موجود ہے جو اللہ کی ایک اور بڑی نعمت ہے۔

سولر انرجی کی تاریخ

سولر انرجی کی  تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو  700سال قبل  مسیح میں سورج کی روشنی کو ایک جگہ پرمنعکس کر کے آگ جلانا  شروع کی اور اس کے بعد سورج کی توانائی کا استعمال بڑھتا چلا گیا، سن 1954 میں پہلا سولر فوٹوولٹک سیل پر ایجاد ہوا  اور سولر سے بجلی حاصل کی جانے لگی ،  1981 میں پہلا سولر  ہوائی جہاز نے  کامیاب اڑان کی، پاکستان میں سن 1980 کی دہائی کے دوران میں صرف۱۸ سولر سسٹم تھے جو کہ ان کی مجموعی صلاحیت 440کلو واٹ تھی ، اس وقت دنیا میں پانچ لاکھ 80 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے،  جو کہ دنیا کی کل بجلی کی پیداوار کا دو فیصد ہے ، پاکستان سن 2220 تک پانچ ہزار میگاواٹ بجلی سورج سے حاصل کرنے پر کام کر رہا ہے ، اگر ہم نے آنے والے 27 سالوں میں اپنی 80فیصد بجلی متبادل توانائی سے حاصل نہ کی تو ہم  دنیا میں بہت پیچھے رہ جائیں گے، پاکستان نے  2025 تک اپنی 25 فیصد بجلی متبادل توانائی سے  پیدا کرنے کا پلان بنایا ہے۔

گھریلو سولر سسٹم کی قیمت

اگر آپ اپنے گھرسولر سسٹم لگانا چاہتے تو ایک لاکھ روپے میں تقریبا ساڑھے سات سو واٹ تک کا سولر سسٹم لگا سکتے ہں کہ جس کے ذریعے دن کے وقت دو سے تین پنکھے اور دس ایل ای ڈی لائٹ استعمال کی جا سکتی ہیں اور رات میں بیٹری کے ذریعے دو سے تین گھنٹے کا بیک اپ بھی حاصل کرسکتے ہیں ، اس میں بیٹریز بھی سولر سے ہی چارج ہونگی۔ اسی طرح دو لاکھ میں 1500واٹ ، تین لاکھ میں 2400واٹ کا اور پانچ لاکھ سے چھ لاکھ میں 5کلو واٹ کا سولر سسٹم لگوا سکتے ہیں جو کہ بتدریج سسٹم کی طاقت کے حساب سے لوڈ اٹھائے گا، پاکستان میں دوپہر کو زیادہ بجلی چاہیے ہوتی ہے اور سولر پینلز دوپہر کوہی زیادہ پیداوار کرتے ہیں جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ پاکستان میں بجلی دن بدن مہنگی ہوتی جارہی ہے اور استعمال کے حساب سے یونٹ کی قیمت کے مختلف درجے ہیں جن کہ وجہ سے فی یونٹ کی قیمت تبدیل ہوجاتی ہے اور صارف کا بل زیاداہ آتا ہے ، سولر سسٹم کی تنصیب کے بعد بل کی مد میں 50 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

دنیا میں سولر انرجی کا استعمال:

چائنہ اس پیداوار میں  سرفہرست ہے جو دو لاکھ چار ہزار میگا واٹ بجلی سورج سے حاصل کرتا ہے جب کہ سن 2012 تک اس کی صلاحیت صرف 42 ہزار میگاواٹ تھی جس نے گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران تقریباً ڈیڑھ لاکھ میگا واٹ کا اضافہ ہوا ، اب تو سعودی عرب کے تیل سے مالامال  ملک بھی سورج سے بجلی بنا  رہا ہے اور اس کا پروگرام ہے کہ سن 2030 تک  دو لاکھ میگا واٹ بجلی بنانے کا ہے۔ ابوظہبی  نے دنیا کا سب سے بڑا  سولر پلانٹ لگا رہا ہے جو دو ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا،  اس کے یونٹ کی قیمت پاکستانی روپوں میں 2 روپے 16 پیسے ہوگی  اور ابوظہبی 2030 تک اپنی 50 فیصد بجلی سورج سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان میں سولر انرجی کا استعمال:

ایک بات ذہن نشین رکھںی ہے کہ ہم اپنی ساری بجلی سولر سے نہیں بنا سکتےکیونکہ سولر پینلزرات کے وقت ، بادلوں اور خراب موسم سولر سے بجلی نہیں بنا سکتے اس کے لیے دیگر ذرائع سے بھی ہم کو بجلی چاہیے ہوتی ہے، پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کی پالیسی سن 2015 میں بنائی گئی جس کے تحت عوام اپنی ضرورت کے مطابق بجلی مفت بنا سکتے ہیں اور زائد بجلی حکومت کو بھی فروخت کرسکتے ہیں اس کے لیے حکومت کم از کم ایک کلو واٹ سسٹم لگانے کی اجازت دیتی ہے اور زیادہ سے زیادہ 250کلو واٹ لگایا جا سکتا ہے لیکن عام طور پر ابھی تک لوگ دس کلو واٹ سے لے کے سو کلو واٹ سسٹم زیادہ انسٹال کروا رہے ہیں، اس کے لئے سب سے پہلے ایک لائسنس درکار ہوتا ہے جس کے لیے وہ اپنی مقامی پاور کمپنی کو جیسے لیسکو، پیپکو یا کے الیکٹرک کو ایک درخواست دائر کرنی ہوتی ہے، جس کے تحت ان کے کچھ عرصے بعد ایک نیٹ میٹرنگ میٹر تنصیب کردیا جاتا ہے جس کا کام استعمال سے زائد بجلی کو گرڈ سسٹم میں داخل کرناہوتاہے یعنی ایک دفعہ بجلی گرڈ میں داخل ہوگئی تو یہ بجلی ان پاور کمپنی کو فروخت کر دی گئی ، اگر آپ نے دن کے اوقات میں ۳۰ یونٹ بجلی پیدا کی اور رات میں ۲۰ یونٹ تو آپ کو ۱۰ یونٹ کا بل آئے گا۔اس اسکیم کے تحت پاکستان میں ابھی تک تقریباً 1200 افراد یہ سسٹم کی تنصبب کروا چکے ہیں اوران میں دن بدن اضافہ بھی ہو رہا ہے ابھی تک یہ افراد 20میگایواٹ بجلی بنا کر  گرڈ میں شامل کر رہے ہیں، اس اسکیم سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ حکومت کو یا پاور کمپنی کو بجلی کے پلانٹ لگانے کی ضرورت نہں ہوتی اور اس میں آنے والے اخراجات بھی نہیں کرنے پڑتے اور ترسل کے دوران ہونے والے اخراجات بھی برداشت نہیں کرنے پڑتے، حکومت کو چاہیے کہ اس اسکم کے تحت زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شعور دے کہ یہ سسٹم انسٹال کروائیں اور نئی آباد ہونے والی آبادیوں مں یہ انتظام کیا جائے کہ اس سسٹم کے تحت بجلی پیدا کی جائے تاکہ کہ اس نئی آبادی میں بجلی کے مسائل پیدا نہ ہو سکے اور اس کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفنن اور کاروباری حضرات کو آسان شرائط پر غیر سودی قرضے بھی فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے گھر یا کاروبار میں سولر سسٹم انسٹال کر سکیں تاکہ ملک میں بجلی سستی فراہم ہو سکے اورغربت کو ختم کرنے مں مدد بھی حاصل ہو سکے جس سے ہماری معیشت کا پہیہ بھی چل سکے گا۔

پاکستان کے موجودہ شمسی توانائی سے چلنے والے منصوبے:

شمسی منصوبوں میں عام طور پر چھوٹے پیمانے پر ہی سرمایہ کاری کی جارہی ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شمسی پینل کے لئے ان کے ابتدائی اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ تاہم ، پاکستان نے کسی حد تک 900 میگاواٹ (ابتدائی طور پر 1000 میگاواٹ) سولر پارک لانچ کر کے توانائی کے ذرائع کو اپنا لیا ہے۔ ابھی تک صرف 200 میگاواٹ مالیت کے پینل لگائے گئے ہیں۔

مجموعی طور پر ، پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار ایک ہزار میگاواٹ ہے ، جس پر چھوٹے منصوبوں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں شمسی توانائی کی صلاحیت سے متعلق بین الاقوامی تحقیق 

اگرچہ شمسی توانائی کو دنیا میں تقریبا کہیں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، مگر اللہ تعالٰی نے پاکستان کو شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لئے ایک اعلی صلاحیت سے نوازا ہے۔

ورلڈ بینک کے شمسی نقشوں پر ایک تفصیلی رپورٹ موجود ہے کہ کون سے مقامات شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لئے موزوں ہیں اور کون سے علاقوں کو عالمی سطح پر افقی افق (GH) مل جاتا ہے۔ زمین پر افقی سطح سے موصولہ شمسی تابکاری کی مجموعی رقم جی ایچ آئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ، جنوبی مغربی بلوچستان اور وسطی سندھ کے کچھ علاقوں میں اوسطا 2،300 کلو واٹ فی گھنٹہ جی ایچ آئی ہے۔

ڈائریکٹ نارمل اریڈینس  (Direct Normal Irradiance (DNI شمسی توانائی کی موجودگی کا پیمانہ ہے جس کی سطح (شمسی پینل) کو سورج کے لئے کھڑا رکھا جاتا ہے۔ یہ زیادہ جدید پینلز کے لئے بنایا گیا ہے جو سورج کی پیروی کرتے ہوئے سمت تبدیل کرسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ، شمال مغربی بلوچستان میں ڈی این آئی کی اعلی قیمت 2،700 کلو واٹ فی گھنٹہ سے زیادہ ہے اور پاکستان کا 83فیصد رقبہ 2 کلو واٹ فی گھنٹہ سے زیادہ ہے۔ یہ اقدار اور اعدادوشمار کا مشرق وسطی کے جزیرہ نما سینا (Sinai Peninsula) کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے، جو شمسی ارتقاء کے معاملے میں اعلی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ، پاکستان کا موسم شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے کیونکہ زمین کی وسیع و عریض ہے جگہیں ایسی ہیں جو فضائی آلودگی ، ایروسول کے اجزاء اور بادل کی وجہ سے متاثر نہیں ہوتے ہیں۔

ایم آئی ٹی اور اسٹینفورڈ محققین نے دنیا کے ممالک اور ان کی شمسی توانائی سے متعلق صلاحیتوں پر ایک گروپ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس تحقیق میں یہاں تک کہ پاکستان میں شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید ذرائع کو کس طرح نافذ کیا جاسکتا ہے کے بارے میں تفصیلی منصوبوں کی فہرست دی گئی ہے۔

ان کے مطالعات کے مطابق ، پاکستان شمسی توانائی کے ذریعے اپنی بجلی کی 92فیصد ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شمسی توانائی سے پاکستان میں 200،000 سے زیادہ ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی ، صحت کے اخراجات میں 916 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوگی جو 2050 تک پاکستان کے پورے جی ڈی پی کا 21 فیصد ہوجائے گی۔ شمسی توانائی سے چلنے والے منصوبے عمل درآمد کے صرف ایک سال میں اس کے اخراجات کی بحالی کرسکتے ہیں۔

پاکستان میں سولر پینلز کی تیاری:

سولر پینل بنانے کے لیے سیلیکون کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ سلیکا سینڈ کی خالص شکل ہے اور پاکستان  کے چاروں صوبوں میں  اس کے وسیع ذخائر ہیں یہ اتنے وسیع ہیں کہ ان کا حجم کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا، صرف مہمند ایجنسی میں پائے جانے والے سلیکا سینڈ کا تخمینہ تقریبا ً  35.5 کروڑ ٹن ہے، پاکستان میں اس سلیکا  ریت کی قیمت صرف 8 روپے فی کلو ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں اس کو ریفائن کے بعد 19 ڈالر میں فروخت کیا جاتا ہے پاکستان سے یہ سالا نہ تین لاکھ 71 ہزار ٹن سلیکا ریت نکالی جاتی ہےمگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم آٹھ روپے فی کلو کے حساب سے چائنا اور دیگر ممالک کو یہ سلیکا سینڈ ایکسپورٹ کرتے ہیں اور دوبارہ ان سے بنے ہوئے سولر پینل 56 ارب روپے کے امپورٹ کرتے ہیں، ہے نہ مزے کی بات، پاکستان نے 2019 میں 56 ارب روپے کے سولر پینل امپورٹ کیےاور اس میں انورٹر اور بیٹری بھی شامل کر لی جائیں تو یہ سو ارب روپے سے  زائد  بنتا ہے ، پاکستان میں سلیکون بنانے کی کوئی بھی فیکٹری موجود نہیں ہے ہم سلیکا کا  پتھر خام حالت میں چائنہ کو ایکسپورٹ کرتے ہیں اور پھر وہاں سے ہم اس کو سو گناہ زیادہ مہنگا اسے دوبارہ خریدتے ہیں مگر موجودہ حکومت سولر پینل بنانے والی کمپنیوں کو اس بات پر راغب کر رہی ہے کہ وہ پاکستان میں ہیں سولر پینل بنانے کی فیکٹریاں قائم کریں، اگر پاکستان سالانہ 10 ہزار میگاواٹ بجلی سولر انرجی سے پیدا کرتا ہے تو اس کو سالانہ دو سو ارب روپے کی بچت ہوگی اور اس کے علاوہ 63 ہزار کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہوا میں شامل ہونے سے بچ سکتی ہے اس سے ماحول میں تازگی پیدا ہوگی،  اس کے علاوہ حکومت پانی میں تیرنے والے  سولر پلانٹس یا سولر پارک کو بھی لگانے پر غور کر رہی ہے جو کہ ہمارے ملک میں موجود ڈیمز میں آسانی سے لگائے جا سکتے ہیں ہیں چائنہ میں پانی میں تیرتا ہوا سب سے بڑاسولر  پلانٹ موجود ہے جو کہ ایک لاکھ 65 ہزار گھروں کو بجلی فراہم کر رہا ہے۔

حتمی خلاصہ

یقینا ، دوسرے عوامل پر بھی غور کرنا ہے۔ پاکستان ایک اعلی رسک مارکیٹ ہے اور شمسی توانائی سے چلنے والی کمپنیوں کے لئے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا مشکل ہے ، لیکن ہماری حکومت کے ذریعہ شمسی توانائی میں مناسب مدد یا زیادہ دلچسپی اس عمل کو بہت زیادہ کشش بخش سکتی ہے۔ شمسی توانائی سے پینل لگانے کے لئے اخراجات میں مسلسل کمی آرہی ہے اور پاکستان جیسے ممالک کے لئے ، جس میں اعلی معیار کی شمسی توانائی اور شعاع ریزی ہے ، شمسی توانائی ہماری بجلی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جہاں  پوری دنیا پہلے ہی شمسی توانائی کی طرف گامزن ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے اور اپنے پیسے کی بچت کرنی چاہیے اوراسی وقت عوام کو ریلیف حاصل ہوگا۔

ہماری دعا ہے کہ پاکستان میں بھی سولر انرجی پروان چڑھے اور  اس دوران آنے والی تمام مشکلات دور ہوں تاکہ پاکستان تیزی سے ترقی کرے، آمین

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *